صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۴ - نذر کی حقیقت کا بیان
نذر کی حقیقت: تقدیر پر اللہ ہی کا اختیار ہے
صحیح مسلم : ۴۲۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۴۴
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ كِلَاهُمَا ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۴ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلے مضمون ہی کی ایک اور سند سے روایت ہوئی ہے۔ اس میں نذر کے بارے میں وہی بات سمجھائی گئی ہے کہ نذر انسان کے لیے وہ چیز لازم نہیں کر دیتی جو اللہ نے اس کے لیے مقرر نہ کی ہو۔ نذر کی حدیث کا عام فہم سبق یہ ہے کہ بندہ اللہ سے معاملہ شرطوں پر نہ کرے۔ یہ کہنا کہ اگر میرا کام ہو گیا تو میں فلاں نذر دوں گا، اللہ کے فیصلے کو بدلنے کا طریقہ نہیں۔ حدیث کے مطابق نذر تقدیر کو نہیں پھیرتی، بلکہ اس کے ذریعے ایسے شخص سے مال نکلتا ہے جو عام طور پر خرچ کرنے میں تنگ دلی دکھاتا ہے۔ اس لیے بہتر بات یہ ہے کہ آدمی اللہ سے دعا کرے، اس پر یقین رکھے، اور نیکی کرنے میں انتظار یا شرط نہ لگائے۔ نذر کے بجائے سیدھا صدقہ، شکر اور دعا زیادہ صاف رویہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت نذر کے حکم کو مزید سند سے بیان کرتی ہے۔
- نذر تقدیر بدلنے کا ذریعہ نہیں بنتی۔
- بندے کو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے نیکی کرنی چاہیے۔
