صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۳ - نذر اور اللہ کی تقدیر
نذر اور تقدیر: جو اللہ نے نہ لکھا ہو وہ نذر سے قریب نہیں آتا
صحیح مسلم : ۴۲۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۴۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ النَّذْرَ لَا يُقَرِّبُ مِنَ ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ قَدَّرَهُ لَهُ ، وَلَكِنْ النَّذْرُ يُوَافِقُ الْقَدَرَ فَيُخْرَجُ بِذَلِكَ مِنَ الْبَخِيلِ مَا لَمْ يَكُنِ الْبَخِيلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر کسی ایسی چیز کو آدمی سے نزدیک نہیں کرتی جو اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں نہیں لکھی لیکن نذر موافق ہوتی ہے تقدیر کے تو نکلتا ہے نذر کی وجہ سے بخیل کے پاس سے وہ مال جس کو وہ نہیں چاہتا تھا نکالنا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نذر کے بارے میں بات بہت صاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر انسان کے قریب وہ چیز نہیں کرتی جو اللہ نے اس کے لیے مقرر نہ کی ہو۔ یعنی اگر کوئی چیز اللہ تعالیٰ نے بندے کے لیے نہیں لکھی تو نذر اسے لازمی حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بن جاتی۔ حدیث میں یہ بھی بتایا گیا کہ نذر تقدیر کے موافق ہوتی ہے، پھر اس کے ذریعے بخیل سے وہ مال نکلتا ہے جو وہ نکالنا نہیں چاہتا تھا۔ یہ بات نذر کی حقیقت کو بہت آسان انداز میں سمجھا دیتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اللہ سے امید رکھے، دعا کرے، اور نیکی کرنے کے لیے نذر کی شرط نہ لگائے۔ اگر مال خرچ کرنا ہے تو اللہ کی رضا کے لیے سیدھا خرچ کرے۔ اس حدیث کا مرکزی سبق اللہ کی تقدیر پر یقین اور نیکی میں صاف نیت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نذر وہ چیز قریب نہیں کرتی جو اللہ نے مقرر نہ کی ہو۔
- تقدیر کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
- صدقہ اور خیرات شرط کے بجائے خوش دلی سے کرنی چاہیے۔
