صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۲ - نذر سے تقدیر نہیں ٹلتی
نذر ماننے کی ممانعت: تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے
صحیح مسلم : ۴۲۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۴۲
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّذْرِ ، وَقَالَ : إِنَّهُ لَا يَرُدُّ مِنَ الْقَدَرِ وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا نذر سے اور فرمایا: ”اس سے تقدیر نہیں پھرتی بلکہ بخیل کا مال نکلتا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۲ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع فرمایا اور بتایا کہ اس سے تقدیر نہیں پھرتی۔ اس حدیث کو سمجھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان یہ نہ سمجھے کہ نذر مان لینے سے کوئی آنے والی مشکل لازمی رک جائے گی یا کوئی فائدہ لازمی مل جائے گا۔ تقدیر کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے۔ نذر کی حدیث میں یہ بات بھی آئی کہ اس سے بخیل کا مال نکلتا ہے۔ یعنی بعض لوگ عام حالات میں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، مگر جب نذر مان لیتے ہیں تو پھر مال نکالتے ہیں۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ نیکی کو شرط کے ساتھ نہ جوڑا جائے۔ اللہ سے دعا مانگیں، اس پر بھروسہ رکھیں، اور صدقہ یا نیکی کرنی ہو تو دل کی خوشی سے کریں۔ یہی صاف اور بہتر طریقہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نذر کو تقدیر بدلنے کا ذریعہ سمجھنا درست نہیں۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر سے منع فرمایا۔
- نیکی اور خرچ دل کی خوشی سے ہونا چاہیے، صرف مجبوری سے نہیں۔
