صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۱ - نذر تقدیر کو نہیں بدلتی

نذر کی حدیث: تقدیر اللہ کے حکم سے ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۴۱

وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَنْذِرُوا ، فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر مت کرو کیونکہ نذر تقدیر سے نہیں پھرتی صرف بخیل سے مال جدا ہوتا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۲۴۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ نذر ماننا تقدیر کو بدلنے کا ذریعہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ نذر مت کرو، کیونکہ نذر تقدیر سے کچھ نہیں پھیرتی۔ عام زبان میں بات یہ ہے کہ انسان اللہ سے معاملہ شرطوں پر نہ باندھے کہ اگر یہ کام ہو گیا تو میں یہ دوں گا یا یہ عبادت کروں گا۔ نذر کی حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے نذر کی وجہ سے تبدیل نہیں ہوتے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ نذر کے ذریعے بخیل سے مال نکلتا ہے، یعنی جو شخص عام طور پر خرچ نہیں کرتا، وہ نذر کے بعد کچھ دینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس لیے اصل بہتر رویہ یہ ہے کہ بندہ بغیر شرط کے اللہ پر بھروسہ کرے، نیکی کرے، صدقہ دے، اور اللہ سے سیدھی دعا مانگے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نذر تقدیر کو بدلنے کا سبب نہیں بنتی۔
  • اللہ سے دعا اور بھروسہ شرطوں کے بغیر ہونا چاہیے۔
  • مال خرچ کرنا ہو تو خوش دلی سے کیا جائے، مجبوری کے انداز میں نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں