صحیح مسلم حدیث ۴۲۷۰ - پیدل سفر، سواری کی درخواست اور قسم کا مسئلہ

قسم کا کفارہ: سفر میں سواری مانگنے والی روایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۷۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، عَنْ زَهْدَمٍ يُحَدِّثُهُ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : كُنَّا مُشَاةً ، فَأَتَيْنَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ .

ابوموسیٰ روایت:

ہم پیدل تھے سفر میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگنے آئے پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزری۔

صحیح مسلم حدیث ۴۲۷۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم سفر میں پیدل تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری مانگنے آئے۔ پھر حدیث کو اسی طرح بیان کیا گیا جیسے اوپر گزری۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعے کا اصل پس منظر ضرورت کا تھا؛ لوگ پیدل تھے اور سواری کے محتاج تھے۔ پہلے آپ کے پاس دینے کو سواری نہ تھی، اس لیے انکار ہوا، پھر بعد میں سواری آئی تو دی گئی۔ اصل سبق وہی ہے کہ اگر کسی نے کسی بات پر قسم کھائی ہو، پھر اس کے خلاف کوئی بہتر صورت سامنے آئے، تو بہتر کام کو اختیار کیا جائے اور قسم کے معاملے کو صحیح انداز سے حل کیا جائے۔ یہ روایت قسم کا کفارہ، ضرورت مند کی مدد اور بہتر کام کرنے کے مضمون کو پھر واضح کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ضرورت مند آدمی اپنی ضرورت بیان کر سکتا ہے۔
  • وسائل نہ ہوں تو فوری مدد ممکن نہیں ہوتی۔
  • بہتر صورت سامنے آئے تو پہلے کی قسم کو ضد نہ بنایا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں