صحیح مسلم حدیث ۴۲۶۹ - قسم کے بعد بہتر کام کرنے کی واضح تعلیم
قسم کا کفارہ: بہتر بات سامنے آئے تو کیا کیا جائے؟
صحیح مسلم : ۴۲۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۶۹
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ ضُرَيْبِ بْنِ نُقَيْرٍ الْقَيْسِيِّ ، عَنْ زَهْدَمٍ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ ، فَقَالَ : " مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكُمْ وَاللَّهِ مَا أَحْمِلُكُمْ ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةِ ذَوْدٍ بُقْعِ الذُّرَى ، فَقُلْنَا إِنَّا أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَحْمِلُهُ فَحَلَفَ أَنْ لَا يَحْمِلَنَا ، فَأَتَيْنَاهُ فَأَخْبَرْنَاهُ ، فَقَالَ : إِنِّي لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ أَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، إِلَّا أَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ " ،
ابوموسیٰ اشعری روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے سواری مانگنے کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس سواری نہیں ہے اور میں تم کو قسم اللہ کی سواری نہیں دوں گا۔“پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے پاس تین اونٹ بھیجے جن کی کوہان چتکبری تھی ہم نے کہا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تھے سواری مانگنے کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ ہم کو سواری نہ دیں گے پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں کسی بات پر قسم نہیں کھاتا پھر دوسری بات بہتر پاتا ہوں تو وہ بہتر کام کرتا ہوں۔“ (اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سواری مانگنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ کے پاس اس وقت سواری نہ تھی، اس لیے فرمایا کہ میرے پاس تمہیں سوار کرنے کے لیے کچھ نہیں، اور اللہ کی قسم میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔ پھر آپ نے ان کے پاس تین اونٹ بھیجے۔ جب انہوں نے قسم والی بات عرض کی تو آپ نے فرمایا کہ میں کسی بات پر قسم نہیں کھاتا، پھر اس سے بہتر بات پاتا ہوں، مگر وہ بہتر کام کرتا ہوں۔ یہ حدیث قسم کا کفارہ اور بہتر کام کے مسئلے کو سادہ الفاظ میں سمجھاتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اپنی قسم کو ضد نہ بنائے، بلکہ جب خیر واضح ہو تو شرعی طریقے سے بہتر راستہ اختیار کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت کے وقت نہ ہونا انکار کی وجہ بن سکتا ہے۔
- بعد میں وسعت آئے تو مدد کی جا سکتی ہے۔
- قسم کے بعد بہتر کام سامنے آئے تو بہتر کام کو اختیار کیا جائے۔
