صحیح مسلم حدیث ۴۲۶۸ - قسم یاد تھی، مگر بہتر کام کیا گیا

قسم کا کفارہ: بھول نہیں، بہتر کام کا انتخاب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۶۸

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الصَّعْقُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ ، حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا زَهْدَمٌ الْجَرْمِيُّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَأْكُلُ لَحْمَ دَجَاجٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فِيهِ ، قَالَ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا نَسِيتُهَا .

‏‏‏‏ وہی جو اوپر گزرا اس میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نہیں بھولا قسم کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۲۶۸ کا خلاصہ

اس روایت میں پچھلے واقعے پر ایک اہم اضافہ آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں قسم کو نہیں بھولا تھا۔ یہ جملہ سمجھاتا ہے کہ سواری دینے کا عمل بھول کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ بہتر کام سامنے آنے کی وجہ سے تھا۔ پہلے سواری موجود نہ تھی، اس لیے قسم کے ساتھ انکار ہوا۔ بعد میں سواری آئی تو ضرورت مند ساتھیوں کو دی گئی۔ پھر یہ بات واضح کی گئی کہ قسم کو یاد رکھتے ہوئے بھی بہتر کام اختیار کیا جا سکتا ہے، اور قسم کے معاملے کو درست طریقے سے حل کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث قسم کا کفارہ، بہتر کام، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاف بیان کا سبق دیتی ہے۔ اس میں آدمی کو ضد کے بجائے خیر کی طرف آنے کی ترغیب ملتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بہتر کام کرنا بھولنے کی وجہ سے نہیں، سمجھ کر بھی ہو سکتا ہے۔
  • قسم کے بعد بہتر صورت سامنے آئے تو اسے نظر انداز نہ کیا جائے۔
  • بات واضح کر دینا غلط فہمی کو ختم کر دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں