صحیح مسلم حدیث ۴۲۷۲ - بہتر کام ملے تو کفارہ دے کر وہی کام کرو

قسم کا کفارہ: بہتر کام سامنے آئے تو عمل کا راستہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۷۲

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَفْعَلْ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قسم کھائے کسی بات کی پھر دوسری بات اس سے بہتر سمجھے تو کفارہ دے قسم کا اور بہتر بات کرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۲۷۲ کا خلاصہ

یہ حدیث مختصر ہے مگر قسم کا کفارہ بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بات پر قسم کھائے، پھر دوسری بات اس سے بہتر سمجھے، تو اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ کام کرے۔ اس میں اصل زور دو باتوں پر ہے: پہلے، آدمی بہتر کام کو پہچانے؛ دوسرے، قسم کے معاملے کو چھوڑ کر لاپرواہ نہ ہو بلکہ کفارہ دے۔ اس حدیث سے یہ نہیں سکھایا گیا کہ قسم کو ہلکا سمجھا جائے، بلکہ یہ بتایا گیا کہ اگر قسم آدمی کو بہتر کام سے روک رہی ہو تو شریعت نے اس کا راستہ رکھا ہے۔ اس لیے “قسم توڑنے کا حکم” سمجھتے وقت “قسم کا کفارہ” ساتھ یاد رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قسم کو کھیل یا عادت نہیں بنانا چاہیے۔
  • بہتر کام سامنے آئے تو اسے کرنے کی گنجائش بیان ہوئی ہے۔
  • قسم کے معاملے میں کفارہ دینے کا ذکر لازم طور پر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں