صحیح مسلم حدیث ۴۲۷۳ - خلاف بہتر ہو تو بہتر کام کرو اور کفارہ دو
قسم کا کفارہ: جب خلافِ قسم کام بہتر ہو
صحیح مسلم : ۴۲۷۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۷۳
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قسم کھائے کسی بات کی پھر اس کا خلاف بہتر سمجھے تو جو بہتر سمجھے وہ کرے اور قسم کا کفارہ دے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۷۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے بارے میں ایک آسان اور عملی اصول بتایا۔ فرمایا کہ جو شخص کسی بات پر قسم کھائے، پھر اس کا خلاف بہتر سمجھے، تو وہی بہتر کام کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے۔ یہاں “خلاف” کا لفظ بہت قابل توجہ ہے، کیونکہ کبھی آدمی پہلے ایک بات پر قسم کھا لیتا ہے، پھر بعد میں اسے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری راہ بہتر ہے۔ ایسی حالت میں ضد، شرمندگی یا لوگوں کے ڈر سے بہتر کام نہ چھوڑا جائے۔ البتہ قسم کا معاملہ بھی نظر انداز نہ کیا جائے؛ حدیث میں کفارہ کا حکم ساتھ آیا ہے۔ اس لیے یہ روایت قسم کا کفارہ، بہتر کام اور عملی دین داری کو ایک ساتھ سمجھاتی ہے، مگر تفصیل اسی حد تک ہے جو حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قسم کے خلاف کام بہتر ہو تو اسے اختیار کرنے کا ذکر آیا ہے۔
- قسم کا کفارہ دینا اس عمل کا حصہ ہے۔
- آدمی کو ضد کے بجائے خیر کی طرف آنا چاہیے۔
