صحیح مسلم حدیث ۴۲۷۶ - بہتر کام کرو اور قسم کو چھوڑ دو
قسم کا کفارہ: بہتر کام کے لیے قسم کو ضد نہ بناؤ
صحیح مسلم : ۴۲۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۷۶
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيَتْرُكْ يَمِينَهُ " .
عدی بن حاتم روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص قسم کھائے پھر اس کا خلاف کرنا بہتر سمجھے تو اس کو کرے اور قسم کو چھوڑ دے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بات پر قسم کھائے، پھر اس کا خلاف کرنا بہتر سمجھے، تو وہی کرے اور اپنی قسم کو چھوڑ دے۔ یہاں “قسم کو چھوڑ دے” کا مطلب اسی بیان کے اندر ہے کہ آدمی بہتر کام کے سامنے اپنی پہلی قسم کو رکاوٹ نہ بنائے۔ حدیث کا موضوع قسم کا کفارہ اور بہتر کام ہے، اگرچہ اس روایت کے الفاظ میں کفارہ کا لفظ نہیں آیا؛ قریب کی روایات میں کفارہ کا ذکر موجود ہے، مگر اس مخصوص متن میں اصل زور بہتر کام کرنے پر ہے۔ اس سے سیکھنے کی بات یہ ہے کہ آدمی اپنی زبان کی وجہ سے خیر سے نہ رکے، بلکہ جب بہتر بات سمجھ آ جائے تو اسے اختیار کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قسم کو بہتر کام کے راستے میں ضد نہ بنایا جائے۔
- اگر خلافِ قسم کام بہتر ہو تو اسے کرنے کی رہنمائی آئی ہے۔
- اس روایت میں اصل زور بہتر کام اختیار کرنے پر ہے۔
