صحیح مسلم حدیث ۴۲۷۵ - قسم کے بعد تقویٰ والی بات کو اختیار کیا جائے

تقویٰ اور قسم: جب دین داری والا راستہ بہتر ہو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۷۵

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ رُفَيْعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، قَالَ : " جَاءَ سَائِلٌ إِلَى عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ فَسَأَلَهُ نَفَقَةً فِي ثَمَنِ خَادِمٍ أَوْ فِي بَعْضِ ثَمَنِ خَادِمٍ ، فَقَالَ : لَيْسَ عِنْدِي مَا أُعْطِيكَ إِلَّا دِرْعِي وَمِغْفَرِي ، فَأَكْتُبُ إِلَى أَهْلِي أَنْ يُعْطُوكَهَا ، قَالَ : فَلَمْ يَرْضَ فَغَضِبَ عَدِيٌّ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكَ شَيْئًا ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ رَضِيَ ، فَقَالَ : أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ثُمَّ رَأَى أَتْقَى لِلَّهِ مِنْهَا ، فَلْيَأْتِ التَّقْوَى مَا حَنَّثْتُ يَمِينِي " .

تمیم بن طرفہ روایت:

ایک فقیر مانگنے کو آیا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس اور سوال کیا ان سے غلام کی قیمت کا یا کوئی حصہ اس کی قیمت کا عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے مگر میری زرہ اور خود، تو میں اپنے گھر والوں کو لکھتا ہوں تجھے دینے کے لیے، وہ راضی نہ ہوا۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور کہا: اللہ کی قسم میں تجھے کچھ نہیں دوں گا۔ پھر وہ شخص راضی ہو گیا۔ عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو شخص قسم کھائے پھر دوسری بات اس سے بڑھ کر پرہیزگاری کی سمجھے تو وہ بات کرے۔“ تو میں اپنی قسم نہ توڑتا (اور تجھے کچھ نہ دیتا)۔

صحیح مسلم حدیث ۴۲۷۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں تمیم بن طرفہ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک فقیر سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور مدد مانگی۔ عدی رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ اور خود دینے کی بات کی، مگر وہ شخص پہلے راضی نہ ہوا۔ عدی رضی اللہ عنہ ناراض ہوئے اور قسم کھا لی کہ میں تجھے کچھ نہیں دوں گا۔ پھر وہ شخص راضی ہو گیا۔ اس وقت عدی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ جو شخص قسم کھائے، پھر اس سے بڑھ کر اللہ کے لیے پرہیزگاری والی بات دیکھے تو وہی کرے، تو میں اپنی قسم نہ توڑتا۔ اس حدیث میں قسم کا کفارہ لفظاً نہیں آیا، مگر اصل تعلیم یہ ہے کہ تقویٰ اور بہتر کام کو قسم کی ضد پر قربان نہ کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غصے میں کھائی گئی قسم بعد میں سوچنے کی محتاج ہو سکتی ہے۔
  • جب تقویٰ والا راستہ سامنے آئے تو اسے اختیار کیا جائے۔
  • مدد کے معاملے میں بہتر بات واضح ہو جائے تو ضد مناسب نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں