صحیح مسلم حدیث ۴۲۸۶ - ان شاء اللہ بھولنے کا سبق
سلیمان علیہ السلام کا واقعہ اور ان شاء اللہ کہنا
صحیح مسلم : ۴۲۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۸۶
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ نَبِيُّ اللَّهِ : لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَى سَبْعِينَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ تَأْتِي بِغُلَامٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ : صَاحِبُهُ أَوِ الْمَلَكُ قُلْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، فَلَمْ يَقُلْ وَنَسِيَ ، فَلَمْ تَأْتِ وَاحِدَةٌ مِنْ نِسَائِهِ إِلَّا وَاحِدَةٌ جَاءَتْ بِشِقِّ غُلَامٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَلَوَ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ وَكَانَ دَرَكًا لَهُ فِي حَاجَتِهِ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سلیمان بن داؤد علیہ السلام پیغمبر نے کہا: میں اس رات کو ستر عورتوں کے پاس ہو آؤں گا (ایک روایت میں نوے ہیں ایک میں نناوے اور ایک میں سو) ہر ایک ان میں سے ایک لڑکا جنے گی جو جہاد کرے گا اللہ تعالیٰ کی راہ میں، ان کے ساتھی یا فرشتے نے کہا: کہو ان شاء اللہ لیکن انہوں نے نہیں کہا وہ بھول گئے پھر کوئی عورت نہیں جنی البتہ ایک جنی وہ بھی آدھا بچہ۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو ان کی بات نہ جاتی اور ان کا مطلب پورا ہو جاتا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا کہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے ارادہ کیا کہ وہ اس رات ستر عورتوں کے پاس جائیں گے اور ہر ایک سے لڑکا ہو گا جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے گا۔ ان کے ساتھی یا فرشتے نے کہا کہ ان شاء اللہ کہیے، مگر وہ بھول گئے اور نہ کہا۔ پھر نتیجہ یہ ہوا کہ کسی عورت کے ہاں بچہ نہ ہوا، صرف ایک کے ہاں آدھا بچہ ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ ان شاء اللہ کہتے تو ان کی بات نہ جاتی اور ان کا مقصد پورا ہو جاتا۔ اس حدیث میں ان شاء اللہ کہنے کی حدیث کا واضح سبق ہے۔ انسان کی نیت اچھی ہو سکتی ہے، منصوبہ بھی نیک ہو سکتا ہے، لیکن تکمیل اللہ کی مشیت سے جڑی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اچھے ارادے کے ساتھ ان شاء اللہ کہنا چاہیے۔
- بھول جانے سے بھی انسان کو اپنی کمزوری یاد رہتی ہے۔
- مستقبل کے کام اللہ کی مشیت کے تابع ہیں۔
- نیک مقصد کے لیے بھی اللہ کی مدد ضروری ہے۔
