صحیح مسلم حدیث ۴۲۹۵ - حنین کے بعد نذر اعتکاف کا سوال

حنین سے واپسی پر نذر اعتکاف کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۹۵

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ كَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِكَافِ يَوْمٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ،

ابن عمر روایت:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے حنین سے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس نذر کو جو انہوں نے جاہلیت میں کی تھی ایک دن کے اعتکاف کی پھر اسی طرح بیان کیا جیسے اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۲۹۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس آئے تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنی اس نذر کے بارے میں پوچھا جو انہوں نے جاہلیت میں مانی تھی، یعنی ایک دن اعتکاف کی نذر۔ پھر روایت میں وہی معنی بیان ہوئے جو اوپر والی حدیث میں آئے ہیں۔ اس کا موضوع نذر، اعتکاف اور دینی وعدہ پورا کرنا ہے۔ قاری کے لیے یہاں اہم بات یہ ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی پرانی نذر کو بھلایا نہیں، بلکہ اس کے بارے میں پوچھا۔ پھر جو رہنمائی ملی اس کے مطابق عمل کیا۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت سے متعلق وعدے کو ٹالا نہیں جانا چاہیے۔ اگر کوئی نذر ہو تو آدمی کو صحیح حکم معلوم کر کے اسے ادا کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پرانی نذر کے بارے میں بھی شرعی رہنمائی لی جا سکتی ہے۔
  • اعتکاف کی نذر کو پورا کرنے کا حکم متن میں آیا ہے۔
  • دینی وعدہ یاد رکھنا اور پوچھنا اچھی بات ہے۔
  • عمل کرنے سے پہلے صحیح حکم معلوم کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں