صحیح مسلم حدیث ۴۲۹۴ - مسجد حرام میں اعتکاف کی نذر

مسجد حرام میں اعتکاف کی نذر اور غلام آزاد کرنے کا واقعہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۹۴

وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ : أَنَّ أَيُّوبَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ بَعْدَ أَنْ رَجَعَ مِنْ الطَّائِفِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَكَيْفَ تَرَى ؟ ، قَالَ : اذْهَبْ فَاعْتَكِفْ يَوْمًا ، قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ جَارِيَةً مِنَ الْخُمْسِ ، فَلَمَّا أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَصْوَاتَهُمْ يَقُولُونَ : أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقَالُوا : أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ اذْهَبْ إِلَى تِلْكَ الْجَارِيَةِ فَخَلِّ سَبِيلَهَا " ،

عبداللہ بن عمر روایت:

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ (ایک مقام کا نام ہے) میں تھے طائف سے لوٹنے کے بعد تو کہا: یا رسول اللہ! میں نے نذر کی تھی جاہلیت میں ایک دن مسجد حرام میں اعتکاف کرنے کی تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا اور اعتکاف کر ایک دن۔“سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے ایک لونڈی ان کو عنایت کی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب قیدیوں کو آزاد کر دیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی آوازیں سنی وہ کہہ رہے تھے کہ ہم کو آزاد کر دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر دیا قیدیوں کو۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (اپنے بیٹے سے) کہا: اے عبداللہ! اس لونڈی کے پاس جا اور اس کو بھی چھوڑ دے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۲۹۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک دن مسجد حرام میں اعتکاف کی نذر مانی تھی، اب کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا کر ایک دن اعتکاف کرو۔ اس سے نذر اعتکاف کا حکم واضح ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کو آزاد کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے پاس موجود لونڈی کو چھوڑ دینے کا حکم دیا۔ اس روایت میں نذر پوری کرنے، مسجد حرام کے اعتکاف، اور آزادی کے عمل کا ذکر ہے۔ حدیث کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جو متن میں آیا ہے، یعنی دینی وعدہ پورا کرنا اور آزادی کے فیصلے میں پیروی کرنا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسجد حرام میں اعتکاف کی نذر پوری کرنے کا حکم دیا گیا۔
  • دینی معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی لی گئی۔
  • قیدیوں کی آزادی کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی لونڈی کو بھی چھوڑا۔
  • عبادت کی نذر کو ادا کرنا سنجیدہ عمل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں