صحیح مسلم حدیث ۴۳۰۵ - طمانچہ مارنے کے حکم کی تائید
خادم پر ظلم سے بچنے کی حدیث: سابقہ حکم کی مضبوط تائید
صحیح مسلم : ۴۳۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۰۵
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ؟ مَا اسْمُكَ ؟ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ .
اس سند سے مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۰۵ کا خلاصہ
یہ حدیث اسی سابقہ روایت کی تائید میں آئی ہے جس میں خادم یا لونڈی کو طمانچہ مارنے کی سختی بیان ہوئی۔ متن میں تفصیل دوبارہ نہیں لائی گئی، بلکہ بتایا گیا کہ اسی سند سے وہی بات روایت کی گئی جو اوپر گزری۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محدثین نے اس واقعے کو مختلف سندوں سے نقل کیا، اور اصل پیغام یہی رہا کہ خادم کے ساتھ ظلم نہیں کیا جائے گا۔ غلام کے حقوق، چہرے پر مارنے کی ممانعت، اور غلطی کے بعد اصلاح اس حدیث کے اہم نکات ہیں۔ جب کوئی روایت بار بار ایک ہی معنی کے ساتھ آتی ہے تو عام قاری کے لیے سبق اور بھی واضح ہو جاتا ہے: اپنے ماتحت شخص کو کمزور سمجھ کر نہ مارو، اس کی عزت کرو، اور غلطی ہو جائے تو اسے معمولی نہ سمجھو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خادم کو طمانچہ مارنے کا معاملہ معمولی نہیں سمجھا گیا۔
- ایک ہی بات کی تائید مختلف روایتوں سے آئی ہے۔
- غلطی کے بعد اصلاح اور حق کی طرف رجوع ضروری ہے۔
- کمزور شخص کے حق کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔
