صحیح مسلم حدیث ۴۳۰۶ - غلام کو مارنا اور اللہ کی قدرت
اللہ تجھ پر زیادہ قدرت رکھتا ہے: غلام کو مارنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۳۰۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۰۶
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ : " كُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي بِالسَّوْطِ ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ خَلْفِي اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ فَلَمْ أَفْهَمْ الصَّوْتَ مِنَ الْغَضَبِ ، قَالَ : فَلَمَّا دَنَا مِنِّي إِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ ، يَقُولُ : اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ ، قَالَ : فَأَلْقَيْتُ السَّوْطَ مِنْ يَدِي ، فَقَالَ : اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ أَنَّ اللَّهَ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا الْغُلَامِ ، فَقُلْتُ : لَا أَضْرِبُ مَمْلُوكًا بَعْدَهُ أَبَدًا " ،
ابومسعود بدری روایت:
میں اپنے غلام کو مار رہا تھا کوڑے سے، ایک آواز میں نے پیچھے سے سنی جیسے کوئی کہتا ہے:“ ”جان لے ابو مسعود!“ میں غصے میں تھا کچھ نہیں سمجھا جب وہ آواز قریب پہنچی میں نے دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں: ”جان لے ابو مسعود! جان لے ابو مسعود!“ میں نے اپنا کوڑا ہاتھ سے پھینک دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے ابو مسعود! جان لے کہ اللہ تجھ پر زیادہ قدرت رکھتا ہے اس سے جتنی تو اس غلام پر رکھتا ہے۔“ میں نے کہا: اب میں کبھی کسی غلام کو نہ ماروں گا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۰۶ کا خلاصہ
یہ حدیث انسان کو اپنی طاقت کے استعمال پر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ اپنے غلام کو کوڑے سے مار رہے تھے۔ غصے کی وجہ سے پہلے آواز سمجھ نہ آئی، پھر معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پیچھے سے فرما رہے ہیں: ابو مسعود! جان لو۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم قریب آئے تو فرمایا کہ اللہ تم پر اس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے جتنی تم اس غلام پر رکھتے ہو۔ یہ جملہ غلام کے حقوق کی حدیث کا اصل پیغام ہے۔ انسان اگر کسی کمزور پر قابو رکھتا ہے تو اسے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ اس پر زیادہ قدرت رکھتا ہے۔ ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے کوڑا پھینک دیا اور کہا کہ اب کبھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ یہ غصے سے توبہ اور عملی تبدیلی کا خوبصورت سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طاقت ملنے پر اللہ کی قدرت کو یاد رکھنا چاہیے۔
- غصہ انسان کو صحیح بات سمجھنے سے روک سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی نصیحت سن کر فوراً غلط کام چھوڑ دینا چاہیے۔
- خادم کو مارنے کے بجائے نرمی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
