صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۲ - نبیِ توبہ صلى الله عليه وسلم اور تہمت سے بچاؤ
زنا کی تہمت سے بچنے کی حدیث: خادم کی آبرو بھی حق ہے
صحیح مسلم : ۴۳۱۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۱۲
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ كِلَاهُمَا ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِهِمَا سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيَّ التَّوْبَةِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ میں نے سنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو نبی تھے توبہ کے (یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نام ہے اس لیے تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر آسان ہو گئی۔ اگلی امتوں پر تو یہ تب قبول ہوتی جب اپنے تیئں مار ڈالتے)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۱۲ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو بیان کرتی ہے جو سابقہ حدیث میں آیا: اپنے غلام یا لونڈی پر زنا کی تہمت لگانا بہت سخت بات ہے، اگر الزام سچا نہ ہو تو قیامت کے دن حد قائم ہو گی۔ اس روایت میں ابوالقاسم صلى الله عليه وسلم کو نبیِ توبہ بھی کہا گیا ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ خادم کی عزت اور آبرو کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ بعض لوگ اپنے ماتحت شخص کے بارے میں سخت الفاظ آسانی سے کہہ دیتے ہیں، مگر یہ حدیث زبان کو روکنے کا سبق دیتی ہے۔ غلام کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ اس پر بے بنیاد الزام نہ لگایا جائے۔ اگر کوئی بات ثابت نہ ہو تو خاموش رہنا بہتر ہے۔ یہ حدیث تہمت، زبان کی حفاظت، اور آخرت کی جواب دہی کو ایک ساتھ یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تہمت سے بچنا زبان کی حفاظت کا اہم حصہ ہے۔
- خادم کی آبرو بھی قابل احترام ہے۔
- سچائی کے بغیر الزام لگانا آخرت میں پکڑ کا سبب بن سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی تعلیم انسان کو توبہ اور اصلاح کی طرف بلاتی ہے۔
