صحیح مسلم حدیث ۴۳۲۵ - ساجھی غلام کو آزاد کرنے کا حکم

ساجھی غلام کو آزاد کرنا: حصہ، قیمت اور انصاف

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۲۵

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قُلْتُ لِمَالِكٍ : حَدَّثَكَ نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ ، فَكَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ ، فَأَعْطَى شُرَكَاءَهُ حِصَصَهُمْ وَعَتَقَ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا حصہ ساجھی کے غلام سے آزاد کر دے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو باقی حصہ کی قیمت ہے تو ٹھیک، قیمت باقی (حصہ یا) حصوں کی وہ اپنے ساجھیوں کو ادا کرے اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو گا اور نہیں تو جتنا حصہ اس کا آزاد ہو اتنا ہی سہی۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۳۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع ساجھی غلام کو آزاد کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا، اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ پورے غلام کی قیمت ادا کر سکے، تو غلام کی منصفانہ قیمت لگائی جائے گی۔ پھر وہ اپنے شریکوں کو ان کے حصے دے گا اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا۔ اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو تو جتنا حصہ آزاد کیا گیا، اتنا ہی آزاد ہوگا۔ اس حدیث میں عدل، شریکوں کے حق، اور غلام کی آزادی کے معاملے کو صاف ترتیب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشترک ملکیت میں شریکوں کے حقوق کا لحاظ رکھا جائے گا۔
  • قیمت لگاتے وقت انصاف کا معیار ضروری ہے۔
  • مال موجود ہو تو باقی حصوں کی قیمت ادا کر کے غلام آزاد کیا جائے گا۔
  • مال نہ ہو تو حدیث کے مطابق آزاد شدہ حصہ ہی معتبر ہوگا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں