صحیح مسلم حدیث ۴۳۲۶ - مشترک غلام کی آزادی کا اصول
مشترک غلام کی آزادی: مال ہو تو مکمل آزادی
صحیح مسلم : ۴۳۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۲۶
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ مِنْ مَمْلُوكٍ ، فَعَلَيْهِ عِتْقُهُ كُلُّهُ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَهُ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا حصہ ساجھی کے غلام میں سے آزاد کر دے اس پر باقی حصہ بھی آزاد کرنا واجب ہے اگر اس کی قیمت کے موافق مال رکھتا ہو ورنہ جتنا آزاد ہو اتنا ہی آزاد ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۳۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں ساجھی غلام کی آزادی کا معاملہ سادہ الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی مملوک میں اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اگر اس کے پاس اس کی قیمت کے برابر مال ہے، اس پر پورے غلام کو آزاد کرنا لازم ہوگا۔ اگر اس کے پاس ایسا مال نہیں، تو جتنا حصہ اس نے آزاد کیا، اتنا ہی آزاد ہوگا۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ آزادی کا عمل کرتے ہوئے دوسرے شریکوں کا حق ضائع نہ ہو۔ اسی لیے حدیث میں مال، قیمت، اور حصہ کا ذکر ساتھ آیا ہے۔ یہ روایت عدل اور ذمہ داری کے ساتھ آزادی کا طریقہ بتاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی مشترک معاملے میں ایک شخص کا عمل دوسروں کے حق سے جڑا ہو سکتا ہے۔
- مال موجود ہو تو باقی حصے کی ذمہ داری بھی ادا کی جائے گی۔
- مال نہ ہونے کی صورت میں حکم اسی حد تک رہے گا جو متن میں بیان ہوا ہے۔
- آزادی کے معاملے میں انصاف اور حق کی ادائیگی ساتھ ساتھ ہیں۔
