صحیح مسلم حدیث ۴۳۲۷ - غلام کی منصفانہ قیمت اور آزادی

غلام کی آزادی میں منصفانہ قیمت کا حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۲۷

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي عَبْدٍ ، فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ قَدْرُ مَا يَبْلُغُ قِيمَتَهُ قُوِّمَ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ " ،

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”جس کسی نے غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس پورے غلام کی قیمت کے برابر مال ہے تو غلام کی پوری قیمت لگائی جائے گی ورنہ اتنا حصہ ہی آزاد ہو گا جتنا اس نے آزاد کیا۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۳۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع غلام کی آزادی میں انصاف ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا، اور اس کے پاس اتنا مال تھا جو پورے غلام کی قیمت تک پہنچتا ہو، تو غلام کی قیمت عدل کے ساتھ لگائی جائے گی۔ اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو تو وہی حصہ آزاد ہوگا جو اس نے آزاد کیا۔ اس روایت میں “قیمت عدل” کا ذکر اہم ہے، کیونکہ معاملہ صرف آزادی کا نہیں، شریکوں کے مالی حق کا بھی ہے۔ حدیث ہمیں متن کی حد میں رہ کر یہ سمجھاتی ہے کہ نیکی کے کام میں بھی حق داروں کا حق نہیں چھوڑا جاتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آزادی کے معاملے میں منصفانہ قیمت کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
  • شریکوں کے مالی حصے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
  • مال موجود ہو تو مکمل ذمہ داری ادا کی جائے گی۔
  • مال نہ ہو تو حکم آزاد کیے گئے حصے تک محدود رہے گا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں