صحیح مسلم حدیث ۴۳۳۴ - آزادی کے حصے میں محنت مگر سختی نہیں
باقی حصے کی ادائیگی: محنت ہو مگر مشقت نہ ہو
صحیح مسلم : ۴۳۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۳۴
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح ، وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي حَدِيثِ عِيسَى ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۳۴ کا خلاصہ
اس روایت میں اوپر والی حدیث اسی سند سے مروی ہے۔ خاص طور پر عیسیٰ کی روایت میں یہ الفاظ آئے کہ پھر غلام سے اس حصے کے لیے محنت کرائی جائے گی جسے آزاد نہیں کیا گیا، مگر اس پر سختی نہیں کی جائے گی۔ اس لیے اس حدیث کا اصل موضوع غلام کی آزادی کے معاملے میں نرمی ہے۔ یہاں کوئی نیا الگ حکم نہیں، بلکہ پچھلی روایت کے مضمون کی تائید اور الفاظ کی وضاحت ہے۔ اس میں شریک کے باقی حصے کا حق بھی سامنے ہے، اور غلام پر حد سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنے کی بات بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے غلام آزاد کرنے اور نرمی کے موضوع سے جوڑا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔
- باقی حصے کے لیے محنت کا ذکر ہے، مگر سختی سے منع کا مفہوم بھی ہے۔
- شریک کا حق اور غلام کی آسانی دونوں کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
- حدیث کے الفاظ میں موجود حد بندی کو برقرار رکھنا چاہیے۔
