صحیح مسلم حدیث ۴۳۳۳ - غلام کی آزادی اور سختی سے بچاؤ
غلام کی آزادی: مال نہ ہو تو مشقت نہ ڈالی جائے
صحیح مسلم : ۴۳۳۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۳۳
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا لَهُ فِي عَبْدٍ ، فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا حصہ آزاد کر دے کسی غلام کا اس کا چھڑانا بھی اسی کے مال میں ہو اگر مال نہ ہو تو غلام سے محنت مزدوری کرائیں گے مگر اس پر جبر نہ ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۳۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع آزادی کے معاملے میں نرمی اور انصاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کرے، تو اگر اس کے پاس مال ہو، اس غلام کا چھڑانا اسی کے مال سے ہوگا۔ اگر اس کے پاس مال نہ ہو، تو غلام سے محنت مزدوری کرائی جائے گی، مگر اس پر سختی نہیں کی جائے گی۔ اس روایت میں ایک طرف شریکوں کے حق کا خیال ہے، دوسری طرف غلام پر بوجھ ڈالنے سے منع کا انداز ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ محنت کا ذکر آیا، لیکن ساتھ ہی “اس پر جبر نہ ہو” بھی بیان ہوا۔ یہی اس حدیث کا نرم اور منصفانہ پہلو ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال ہو تو غلام کی آزادی کی قیمت اسی مال سے ادا کی جائے گی۔
- مال نہ ہو تو محنت کا طریقہ بیان ہوا ہے۔
- غلام پر سختی یا ناقابل برداشت جبر نہیں کیا جائے گا۔
- حدیث میں حق کی ادائیگی اور نرمی دونوں ساتھ ہیں۔
