صحیح مسلم حدیث ۴۳۳۲ - حصہ آزاد ہو تو مکمل آزادی
غلام کا ایک حصہ آزاد کرنا: کل آزادی کا حکم
صحیح مسلم : ۴۳۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۳۲
وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قَالَ : مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا مِنْ مَمْلُوكٍ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِهِ .
شعبہ روایت:
اسی سند سے شعبہ سے روایت ہے، فرمایا: ”جو آزاد کر دے ایک حصہ غلام کا تو وہ کل آزاد ہو گا اس کے مال میں سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۳۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں اسی سند سے یہ بات نقل ہوئی کہ جو شخص غلام کا ایک حصہ آزاد کر دے، تو وہ پورا آزاد ہوگا، مگر یہ آزادی اس کے مال سے ہوگی۔ یہ مضمون پچھلی روایات سے جڑا ہوا ہے، جہاں مشترک غلام، حصہ، قیمت، اور شریکوں کے حقوق کی بات آئی ہے۔ یہاں اصل زور اس بات پر ہے کہ آزادی کا اعلان کرنے والا شخص دوسرے حصے کی ذمہ داری سے الگ نہیں رہتا۔ اگر غلام مشترک ہے تو ایک حصے کی آزادی باقی حصے کے مالی حق کو بھی سامنے لاتی ہے۔ اس لیے اس حدیث کو غلام آزاد کرنے، مشترک ملکیت، اور مالی ذمہ داری کے موضوع میں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلام کا حصہ آزاد کرنے سے مالی ذمہ داری پیدا ہو سکتی ہے۔
- کل آزادی کو آزاد کرنے والے کے مال سے جوڑا گیا ہے۔
- مشترک حق رکھنے والوں کا حصہ محفوظ رکھا گیا ہے۔
- حدیث کا اطلاق اسی خاص معاملے کے متن تک محدود رکھنا چاہیے۔
