صحیح مسلم حدیث ۴۳۳۱ - ساجھی غلام میں ضمان کا حکم
ساجھی غلام کی آزادی اور دوسرے حصے کی ضمان
صحیح مسلم : ۴۳۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۳۱
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ ، فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا " ، قَالَ : يَضْمَنُ ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو غلام ساجھی کا ہو اور ایک شریک اپنا حصہ آزاد کر دے تو وہ دوسرے حصہ کے بھی دام دے گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۳۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ضمان، یعنی ذمہ داری ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشترک غلام کے بارے میں فرمایا: جب دو آدمیوں کے درمیان مملوک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے، تو وہ ضمان دے گا۔ ترجمے میں اس کی وضاحت ہے کہ وہ دوسرے حصے کے دام دے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آزادی کے عمل میں دوسرے شریک کا مالی حق باقی رہتا ہے۔ یہاں حدیث کا پیغام یہ ہے کہ اچھا کام کرتے ہوئے بھی مالی ذمہ داری سے بچا نہیں جا سکتا۔ آزادی، حصہ، اور قیمت تینوں باتیں ساتھ سمجھی جائیں گی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشترک غلام میں ایک شریک کے عمل سے دوسرے کا حق متاثر ہو سکتا ہے۔
- دوسرے حصے کی قیمت ادا کرنے کی ذمہ داری بیان ہوئی ہے۔
- نیکی کے کام میں مالی حق نظر انداز نہیں کیا گیا۔
- حدیث کا حکم مشترک ملکیت کے خاص معاملے سے متعلق ہے۔
