صحیح مسلم حدیث ۴۳۳۰ - حصہ آزاد کرنے کے بعد باقی حصہ
غلام کا حصہ آزاد کرنا: باقی حصہ کس کے مال سے؟
صحیح مسلم : ۴۳۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۳۰
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا كَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنا حصہ آزاد کر دے غلام میں تو باقی حصہ بھی اس کے مال سے آزاد ہو گا اگر اس کے پاس اتنا مال ہو اس حصہ کی قیمت کے برابر۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۳۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دے، تو اگر اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت تک پہنچتا ہو، باقی حصہ بھی اس کے مال سے آزاد ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشترک غلام کے معاملے میں صرف اپنا حصہ آزاد کر دینا کافی نہیں رہتا جب آزاد کرنے والے کے پاس مالی استطاعت موجود ہو۔ حدیث میں قیمت، مال، اور باقی حصہ کا ذکر اسی لیے آیا ہے کہ شریکوں کا حق ضائع نہ ہو اور غلام کی آزادی کا معاملہ منصفانہ طریقے سے مکمل ہو۔ یہ روایت غلام آزاد کرنے کے حکم کو ذمہ داری کے ساتھ جوڑتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مالی استطاعت ہو تو باقی حصہ بھی آزاد کیا جائے گا۔
- مشترک ملکیت میں دوسرے شریک کے حق کا خیال لازم ہے۔
- غلام کی آزادی کا معاملہ انصاف کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے۔
- حدیث میں حکم مال اور قیمت کی شرط کے ساتھ بیان ہوا ہے۔
