صحیح مسلم حدیث ۴۳۲۹ - مشترک غلام کی عادلانہ قیمت

مشترک غلام کی آزادی میں نہ کمی نہ زیادتی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۲۹

وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ قُوِّمَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ قِيمَةَ عَدْلٍ ، لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ ، ثُمَّ عَتَقَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ مُوسِرًا " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایسا غلام آزاد کرے جو ساجھی کا ہو تو اس کی ٹھیک قیمت کم نہ زیادہ لگائیں گے اور اس کے مال میں سے آزاد ہو گا اگر وہ مالدار ہو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۳۲۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع عدل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایسا غلام آزاد کرے جو اس کے اور کسی دوسرے کے درمیان مشترک ہو، تو اس کی قیمت عدل کے ساتھ لگائی جائے گی۔ متن میں خاص الفاظ آئے ہیں کہ نہ کمی ہو اور نہ زیادتی۔ پھر اگر آزاد کرنے والا مالدار ہو تو اسی کے مال سے غلام آزاد ہوگا۔ اس روایت میں صاف سبق ہے کہ آزادی کا عمل اچھا ہے، مگر اس میں بھی دوسرے شریک کا حق محفوظ رہے گا۔ یہاں کسی پر ظلم یا ناجائز دباؤ نہیں، بلکہ ٹھیک قیمت، مالی استطاعت، اور منصفانہ ادائیگی کی بات ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مشترک غلام کی قیمت نہ کم لگائی جائے نہ زیادہ۔
  • عدل کے بغیر مالی معاملہ درست نہیں رہتا۔
  • مالدار شخص پر باقی حصے کی ذمہ داری اس کے مال سے آئے گی۔
  • نیکی کے کام میں بھی دوسرے کے حق کا خیال رکھا جائے گا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں