صحیح مسلم حدیث ۴۳۷۲ - ہاتھ کاٹنے پر دانت کی دیت ساقط
دانت کی دیت نہیں: ہاتھ کاٹنے والے واقعے کی تفصیل
صحیح مسلم : ۴۳۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۷۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ ، قَالَ : وَكَانَ يَعْلَى يَقُولُ : تِلْكَ الْغَزْوَةُ أَوْثَقُ عَمَلِي عِنْدِي ، فَقَالَ عَطَاءٌ : قَالَ صَفْوَانُ : قَالَ يَعْلَى : كَانَ لِي أَجِيرٌ فَقَاتَلَ إِنْسَانًا فَعَضَّ أَحَدُهُمَا يَدَ الْآخَرِ ، قَالَ : لَقَدْ أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ أَيُّهُمَا عَضَّ الْآخَرَ ، فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ ، فَانْتَزَعَ إِحْدَى ثَنِيَّتَيْهِ ، فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ " ،
یعلیٰ بن امیہ روایت:
میں نے جہاد کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ تبوک میں اور وہ سب سے زیادہ بھروسے کا عمل ہے میرا تو میرا ایک نوکر تھا، وہ ایک شخص سے لڑا۔ اور دونوں میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ دانت سے کاٹا۔ عطاء نے کہا: مجھ سے صفوان بن یعلیٰ نے بیان کیا تھا۔ کس نے کس کا ہاتھ کاٹا تھا۔ پھر جس کا ہاتھ کاٹا تھا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا کاٹنے والے کے منہ سے، اس کا ایک دانت گر پڑا۔ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت کو لغو کر دیا (یعنی اس کی دیت نہیں دلائی)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ پہلے غزوہ تبوک کا ذکر کرتے ہیں، پھر اپنے ایک نوکر کا واقعہ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص سے جھگڑا ہوا اور دونوں میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ دانت سے کاٹ لیا۔ جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا، اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے کھینچا تو اس کا ایک دانت گر گیا۔ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دانت کو لغو قرار دیا، یعنی اس کی دیت نہیں دلائی۔ اس روایت میں اصل موضوع دفاع، جھگڑا، دانت کی دیت اور ہاتھ کاٹنے کا واقعہ ہے۔ متن میں اتنی ہی بات آئی ہے، اس لیے اس سے آگے بڑھ کر کوئی نیا حکم شامل نہیں کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کاٹنے والے کے دانت پر دیت نہیں دلائی گئی۔
- واقعہ جھگڑے کے دوران پیش آیا۔
- ہاتھ کاٹنے کا عمل دعوے کو مضبوط نہیں بناتا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقدمہ لا کر فیصلہ لیا گیا۔
