صحیح مسلم حدیث ۴۳۷۴ - دانت میں قصاص اور دیت

دانت میں قصاص کی حدیث: قصاص، دیت اور بھروسہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۷۴

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ أُخْتَ الرُّبَيِّعِ أُمَّ حَارِثَةَ جَرَحَتْ إِنْسَانًا ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْقِصَاصَ الْقِصَاصَ ، فَقَالَتْ أُمُّ الرَّبِيعِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُقْتَصُّ مِنْ فُلَانَةَ وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا أُمَّ الرَّبِيعِ الْقِصَاصُ كِتَابُ اللَّهِ ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ لَا يُقْتَصُّ مِنْهَا أَبَدًا ، قَالَ : فَمَا زَالَتْ حَتَّى قَبِلُوا الدِّيَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " .

انس روایت:

ام حارثہ رضی اللہ عنہا ربیع کی بہن نے (جو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں) ایک آدمی کو زخمی کیا۔ (اس کا دانت توڑ ڈالا) پھر انہوں نے جھگڑا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قصاص لیا جائے گا۔ قصاص لیا جائے گا۔“ ام ربیع نے کہا: یا رسول اللہ! کیا فلانے سے قصاص لیا جائے گا؟ (یعنی ام حارثہ سے) اللہ کی قسم! اس سے قصاص نہ لیا جائے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! اے ام ربیع! اللہ کی کتاب حکم کرتی ہے قصاص کا۔“ ام ربیع نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! اس سے کبھی قصاص نہیں لیا جائے گا۔ پھر اُم ربیع بھی کہتی رہی۔ یہاں تک کہ جس کا دانت ٹوٹا تھا اس کے کنبے والے دیت لینے پر راضی ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بعض بندے اللہ تعالیٰ کے ایسے ہیں کہ اگر اس کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ ان کو سچا کرے گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۳۷۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ام حارثہ رضی اللہ عنہا نے ایک شخص کو زخمی کیا، یعنی اس کا دانت توڑ دیا۔ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قصاص لیا جائے گا۔ ام ربیع رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم، اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب میں قصاص ہے۔ پھر بات جاری رہی یہاں تک کہ زخمی شخص کے گھر والے دیت لینے پر راضی ہو گئے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ انہیں سچا کر دیتا ہے۔ اس حدیث میں قصاص، دیت، صلح اور اللہ پر بھروسے کا مضمون ایک ساتھ آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دانت کے زخم میں قصاص کا حکم بیان ہوا۔
  • متاثرہ فریق دیت لینے پر راضی ہو سکتا ہے، جیسا کہ واقعے میں ہوا۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کتاب کا حکم یاد دلایا۔
  • بعض بندوں کے اللہ پر بھروسے کی قبولیت کا ذکر آیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں