صحیح مسلم حدیث ۴۳۷۷ - خطبے میں جان کی حرمت کا بیان
مسلمان کے خون کی حرمت: خطبے میں بیان ہونے والی حدیث
صحیح مسلم : ۴۳۷۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۷۷
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ لَا يَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، إِلَّا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ التَّارِكُ الْإِسْلَامَ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ أَوِ الْجَمَاعَةَ شَكَّ فِيهِ أَحْمَدُ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ " ، قَالَ الْأَعْمَشُ : فَحَدَّثْتُ بِهِ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنِي ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ ،
عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو خطبہ سنانے کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا:”قسم ہے اس کو جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ مسلمان کا خون کرنا درست نہیں جو گواہی دیتا ہو اس امر کی کہ سوا اللہ کے کوئی معبود نہیں ہے اور میں اس کا بھیجا ہوا ہوں۔ مگر تین شخصوں کا ایک تو وہ جو دین اسلام کو چھوڑ دے اور جماعت سے الگ ہو جائے، دوسری یہ کہ جس کا نکاح ہوچکا ہو اور وہ زنا کرے، تیسری جان بدلے جان کے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۳۷۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سنانے کے لیے کھڑے ہوئے اور قسم کھا کر فرمایا کہ مسلمان کا خون حلال نہیں جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں، مگر تین شخصوں کا: جو دین اسلام چھوڑ دے اور جماعت سے الگ ہو جائے، شادی شدہ زنا کرنے والا، اور جان کے بدلے جان۔ اس حدیث میں بات خطبے کے انداز میں آئی ہے، اس لیے اس کی تاکید بھی نمایاں ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان کی جان معمولی چیز نہیں۔ حدیث کے الفاظ میں تین خاص صورتیں بیان ہوئی ہیں، اس لیے اس سے بڑھ کر کوئی بات اپنی طرف سے شامل نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے ساتھ جان کی حرمت بیان فرمائی۔
- مسلمان کے خون کو عام طور پر حلال قرار نہیں دیا گیا۔
- تین مخصوص صورتوں کا ذکر حدیث کے متن میں آیا ہے۔
- جان کے بدلے جان کا اصول قصاص کے طور پر بیان ہوا۔
