صحیح مسلم حدیث ۴۳۹۳ - حاملہ عورت اور جنین کی دیت
حاملہ عورت کی دیت: جنین کے لیے غرہ کا حکم
صحیح مسلم : ۴۳۹۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۹۳
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَهَا بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ وَهِيَ حُبْلَى ، فَقَتَلَتْهَا ، قَالَ : وَإِحْدَاهُمَا لِحْيَانِيَّةٌ ، قَالَ : فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَى عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِهَا ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ : أَنَغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ " ، قَالَ : وَجَعَلَ عَلَيْهِمُ الدِّيَةَ .
مغیرہ بن شعبہ روایت:
ایک عورت نے اپنی سوت کو ڈیرے کی لکڑی سے مارا وہ حاملہ تھی مر گئی۔ ان میں سے ایک بنی لحیان کی عورت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے کنبے والوں سے دلائی اور پیٹ کے بچے کی دیت ایک غلام مقرر کی ایک شخص جو قاتلہ کی قوم سے تھا بولا: ہم کیونکر تاوان دیں اس کا جس نے نہ پیا، نہ کھایا، نہ چلایا ایسا گیا آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدویوں کی طرح قافیہ دار عبارت بولتا ہے اور واجب کیا ان پر دیت کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۳۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک عورت نے اپنی سوت کو ڈیرے کی لکڑی سے مارا، جبکہ وہ حاملہ تھی، پھر وہ مر گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے کنبے والوں پر رکھی اور پیٹ کے بچے کے لیے ایک غلام مقرر فرمایا۔ قاتلہ کی قوم کے ایک شخص نے اعتراض کیا کہ ہم ایسے بچے کا تاوان کیوں دیں جس نے نہ کھایا، نہ پیا اور نہ آواز نکالی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قافیہ دار انداز کو بدویوں کے سجع جیسا کہا اور دیت کو لازم رکھا۔ اس روایت میں حاملہ عورت کے نقصان اور جنین کے حق دونوں کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے مار پیٹ کے اثرات صرف ایک شخص تک محدود نہیں رہتے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حاملہ عورت کے قتل میں عورت اور بچے دونوں کا معاملہ دیکھا گیا۔
- پیٹ کے بچے کے لیے غرہ کا فیصلہ بیان ہوا۔
- قافیہ دار اعتراض فیصلے کو بدلنے کا سبب نہیں بنا۔
