صحیح مسلم حدیث ۴۵۱۵ - مہمان کے حق کو دل سے یاد رکھنا

مہمان نوازی کی حدیث: سنا، دیکھا اور دل نے یاد رکھا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۱۵

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَبَصُرَ عَيْنِي ، وَوَعَاهُ قَلْبِي حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَذَكَرَ فِيهِ : وَلَا يَحِلُّ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ ، بِمِثْلِ مَا فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ .

‏‏‏‏ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ میرے کانوں نے سنا، آنکھ نے دیکھا، دل نے یاد رکھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۵۱۵ کا خلاصہ

یہ روایت بھی مہمان نوازی کے اسی مضمون کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں راوی کے بیان کا انداز بہت مؤثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے کانوں نے سنا، میری آنکھ نے دیکھا اور میرے دل نے یاد رکھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات فرمائی۔ پھر وہی مضمون آیا کہ کسی کے لیے درست نہیں کہ اپنے بھائی کے پاس اتنا ٹھہرا رہے کہ اسے گناہ میں ڈال دے۔ اس سے مہمان کے ادب کی اہمیت سمجھ آتی ہے۔ مہمان نوازی اچھی بات ہے، مگر میزبان کی حالت کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔ اس حدیث میں ضیافت، بھائی چارہ، یاد رکھ کر دین کی بات نقل کرنا اور دوسروں کو تنگی میں نہ ڈالنا جیسے سبق موجود ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین کی بات سن کر یاد رکھنا اور صحیح نقل کرنا اہم ہے۔
  • مہمان کو میزبان کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • بھائی کے گھر قیام میں اعتدال ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں