صحیح مسلم حدیث ۴۵۱۴ - ضیافت تین دن اور مہمان کا ادب
ضیافت کی حدیث: مہمان بھی میزبان کا خیال رکھے
صحیح مسلم : ۴۵۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۱۴
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ ، وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَخِيهِ حَتَّى يُؤْثِمَهُ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ ؟ ، قَالَ : يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَا شَيْءَ لَهُ يَقْرِيهِ بِهِ " ،
ابوشریح خزاعی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ضیافت تین دن تک ہے اور اس کا تکلف ایک دن رات تک چاہیے اور کسی مسلمان کو درست نہیں کہ اپنے بھائی کے پاس ٹھہرا رہے یہاں تک کہ اس کو گناہ میں ڈالے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کس طرح اس کو گناہ میں ڈالے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے پاس ٹھہرا رہے اور اس کے پاس کچھ نہ ہو کھلانے کے لیے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں مہمان نوازی کے ساتھ مہمان کے ادب کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ضیافت تین دن تک ہے اور اس کی خاص خاطر داری ایک دن اور ایک رات ہے۔ پھر فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ اپنے بھائی کے پاس اتنا ٹھہرا رہے کہ اسے گناہ میں ڈال دے۔ صحابہ نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوگا؟ فرمایا کہ وہ اس کے پاس ٹھہرا رہے جبکہ میزبان کے پاس کھلانے کے لیے کچھ نہ ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مہمان کا حق ہے، لیکن میزبان کی حالت کا خیال بھی ضروری ہے۔ مہمان نوازی، اعتدال، بھائی چارہ اور دوسرے کو تکلیف نہ دینا اس روایت کا مرکزی سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضیافت تین دن تک بیان ہوئی ہے۔
- خاص خاطر داری ایک دن اور ایک رات ہے۔
- مہمان کو میزبان کی تنگی کا خیال رکھنا چاہیے۔
