صحیح مسلم حدیث ۴۵۱۳ - مہمان کی عزت اور اچھی بات
مہمان نوازی کی حدیث: اچھی بات کہو یا خاموش رہو
صحیح مسلم : ۴۵۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۱۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : سَمِعَتْ أُذُنَايَ وَأَبْصَرَتْ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ جَائِزَتَهُ ، قَالُوا : وَمَا جَائِزَتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : يَوْمُهُ وَلَيْلَتُهُ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، فَمَا كَانَ وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ عَلَيْهِ ، وَقَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ " .
ابوشریح عدوی روایت:
میرے کانوں نے سنا اور میری آنکھوں نے دیکھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یقین رکھتا ہے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر اس کو چاہیئے کہ خاطر داری کرے اپنے مہمان کی تکلف کے ساتھ۔“ لوگوں نے کہا: تکلف کب تک یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تکلف ایک دن رات تک ہے۔“ (یعنی ایک دن رات اپنے مقدور کے موافق عمدہ کھانا کھلائے اور مہمانی تین دن تک ہے یعنی دو دن معمولی کھانا کھلائے) پھر اس کے بعد جو مہمانی کرے صدقہ ہے اور جو شخص یقین رکھتا ہو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اس کو چاہیے کہ نیک بات کہے یا چپ رہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۵۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو بڑے آداب ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں: مہمان نوازی اور زبان کی حفاظت۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر داری کرے۔ صحابہ نے پوچھا کہ خاص خاطر داری کتنی دیر تک ہے؟ فرمایا: ایک دن اور ایک رات۔ پھر بتایا گیا کہ ضیافت تین دن تک ہے، اور اس کے بعد جو کچھ کیا جائے وہ صدقہ ہے۔ اسی حدیث میں فرمایا گیا کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ یہ حدیث مہمان کی عزت، گھر کے آداب، زبان کی احتیاط اور ایمان کے عملی اثرات کو بہت آسان انداز میں سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مہمان کی عزت کرنا ایمان والے کے آداب میں سے ہے۔
- خاص خاطر داری ایک دن رات اور ضیافت تین دن تک بیان ہوئی ہے۔
- زبان کو اچھی بات تک محدود رکھنا یا خاموش رہنا بہتر ہے۔
