صحیح مسلم حدیث ۴۵۲۳ - امیر لشکر کو نصیحت
امیر لشکر کو نصیحت: ذمہ داری سے پہلے یاد دہانی
صحیح مسلم : ۴۵۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۲۳
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بُرَيْدَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا أَوْ سَرِيَّةً دَعَاهُ فَأَوْصَاهُ " وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ ،
بریدہ روایت:
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی امیر لشکر کو روانہ فرماتے تو اس کو بلا کر اسے نصیحت فرماتے۔ باقی سفیان کی حدیث کے مثل ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۲۳ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب کسی امیر لشکر کو روانہ فرماتے تو اسے بلا کر نصیحت فرماتے۔ متن نے تفصیل کو سفیان کی حدیث کے مثل قرار دیا ہے، اس لیے یہاں اصل بات یہی ہے کہ قیادت دینے سے پہلے نصیحت کی جاتی تھی۔ یہ امیر لشکر کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ذمہ داری ملنے والا شخص بے خبر یا اپنی مرضی پر نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ اسے اللہ سے ڈرنے، لوگوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنے اور حدود کا خیال رکھنے کی یاد دہانی دی جاتی ہے۔ چونکہ اس روایت میں تفصیلی الفاظ دوبارہ نہیں آئے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکتی ہے۔ اس کا عام پیغام یہ ہے کہ کسی کام پر بھیجتے وقت رہنما کو پہلے ذمہ داری، امانت اور حسن سلوک یاد دلانا ایک سنجیدہ عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ذمہ داری دینے سے پہلے نصیحت کرنا نبوی طریقے میں شامل تھا۔
- امیر لشکر کو بلا کر سمجھانا قیادت کی سنجیدگی دکھاتا ہے۔
- یہ روایت تفصیل کو پچھلی روایت جیسا کہتی ہے، اس لیے بات اسی حد تک رکھی جائے۔
