صحیح مسلم حدیث ۴۵۳۱ - دغا باز کی قیامت میں نشانی

دغا باز کی نشانی: قیامت کے دن جھنڈا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۳۱

وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْغَادِرَ يَنْصِبُ اللَّهُ لَهُ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ أَلَا هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ " .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۴۵۳۱ کا خلاصہ

اس روایت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل ہوا ہے کہ دغا باز کے لیے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جھنڈا نصب کرے گا، پھر کہا جائے گا: خبردار، یہ فلانے کی دغا ہے۔ اس حدیث میں عہد شکنی کو ایک ایسی بات بتایا گیا ہے جو آخرت میں چھپی نہیں رہے گی۔ لفظ جھنڈا یہاں پہچان کے طور پر آیا ہے، یعنی دغا باز اپنی دغا کے ساتھ پہچانا جائے گا۔ اس سے وعدہ خلافی کی حدیث کا صاف پیغام ملتا ہے کہ مسلمان کو عہد، امان اور ذمہ داری میں صاف رہنا چاہیے۔ متن میں کسی خاص دنیاوی سزا کی تفصیل نہیں، اس لیے اس میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ اصل بات اتنی ہے کہ دغا بازی کو قیامت کی شرمندگی کا سبب بتایا گیا ہے، اس لیے انسان کو اپنے معاملات میں سچائی اور وفا کو اختیار کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دغا باز کی دغا قیامت کے دن ظاہر کی جائے گی۔
  • جھنڈے کا ذکر اس کی پہچان کے طور پر آیا ہے۔
  • عہد اور وعدے میں وفا کرنا انسان کے لیے سنجیدہ ذمہ داری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں