صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۳ - بویرہ کے درخت اور بنی نضیر کا واقعہ
بویرہ کے درخت: بنی نضیر والی حدیث کا پیغام
صحیح مسلم : ۴۵۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۵۳
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ : " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ ، وَحَرَّقَ وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ وَفِي ذَلِكَ نَزَلَتْ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا سورة الحشر آية 5 الْآيَةَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے درخت کٹوا ڈالے اور جلوا دیئے اور سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ شعر اسی باب میں ہے۔ ترجمہ اس کا یہ ہے: سہل ہو بنی لؤی کے شریفوں اور سرداروں پر جلانا بویرہ کا جس کی انگار اڑ رہی تھی (بنی لؤی سے مراد قریش ہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بنی نضیر کے درخت کٹوا دیے اور جلوا دیے۔ روایت میں سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے ایک شعر کا بھی ذکر ہے، جس میں بویرہ کے جلنے کی طرف اشارہ کیا گیا۔ پھر اسی سلسلے میں سورہ حشر کی آیت کا ذکر آیا کہ جو کھجور کے درخت کاٹے گئے یا اپنی جڑوں پر کھڑے چھوڑے گئے، وہ اللہ کے حکم سے تھا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع بنی نضیر کا واقعہ اور بویرہ کے درخت ہیں۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بعض واقعات حدیث میں مختصر تاریخی انداز سے آتے ہیں، اور ان کے ساتھ قرآنی آیت بھی بیان ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بنی نضیر کے درخت کاٹنے اور جلانے کا واقعہ روایت میں موجود ہے۔
- بویرہ کا ذکر اسی واقعے کے ضمن میں آیا ہے۔
- سورہ حشر کی آیت اس واقعے سے متعلق بیان کی گئی۔
- حدیث کے تاریخی بیان کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔
