صحیح مسلم حدیث ۴۸۲۴ - رسول صلى الله عليه وسلم کے بعد موت پر بیعت سے احتیاط

موت پر بیعت کی حدیث: رسول صلى الله عليه وسلم کے بعد احتیاط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۲۴

وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَي ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : " أَتَاهُ آتٍ ، فَقَالَ : هَا ذَاكَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ ، فَقَالَ : عَلَى مَاذَا ؟ ، قَالَ : عَلَى الْمَوْتِ ، قَالَ : لَا أُبَايِعُ عَلَى هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

‏‏‏‏ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس کوئی آیا اور کہنے لگا، یہ حنظلہ کا بیٹا ہے جو لوگوں سے بیعت لے رہا ہے مرنے پر۔ انہوں نے کہا: میں ایسی بیعت کسی سے کرنے والا نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد۔

صحیح مسلم حدیث ۴۸۲۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع بیعت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ حنظلہ کا بیٹا لوگوں سے موت پر بیعت لے رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ کس بات پر؟ جواب ملا کہ موت پر۔ اس پر انہوں نے صاف کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے اس بات پر بیعت نہیں کروں گا۔ یہ روایت بیعت رضوان کے خاص مقام کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ یہاں صحابی کا انداز بہت محتاط ہے۔ وہ ہر عہد کو وہی درجہ نہیں دیتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیعت کو حاصل تھا۔ موت پر بیعت کی حدیث میں یہ پہلو نمایاں ہے کہ دینی عہد جذباتی نعرہ نہیں، بلکہ اپنی جگہ، موقع اور نسبت کے ساتھ سمجھا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے بعد موت پر بیعت نہ کی۔
  • بیعت کے معاملے میں صحابہ احتیاط کرتے تھے۔
  • ہر عہد کو اس کے موقع اور نسبت کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں