صحیح مسلم حدیث ۴۸۲۵ - اجازت اور غلط الزام کا جواب
سلمہ بن اکوع کی حدیث: اجازت کے ساتھ دیہات میں رہنا
صحیح مسلم : ۴۸۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۲۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ : " ارْتَدَدْتَ عَلَى عَقِبَيْكَ تَعَرَّبْتَ ، قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِي فِي الْبَدْوِ " .
سلمہ بن اکوع روایت:
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ حجاج کے پاس گئے وہ بولا: اے اکوع کے بیٹے! تو مرتد ہو گیا پھر جنگل میں رہنے لگا۔ سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو اجازت دی جنگل میں رہنے کی۔
صحیح مسلم حدیث ۴۸۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اجازت ہے۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ حجاج کے پاس گئے تو اس نے سخت بات کہی کہ اے اکوع کے بیٹے، کیا تم پلٹ گئے اور جنگل میں رہنے لگے؟ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بدو علاقے میں رہنے کی اجازت دی تھی۔ یہ روایت بہت سیدھی بات سکھاتی ہے کہ کسی مسلمان پر الزام لگانے سے پہلے اصل بات جاننی چاہیے۔ سلمہ بن اکوع کی حدیث میں دیہات میں رہنے کا ذکر کسی خواہش یا بہانے کے طور پر نہیں آیا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے ساتھ آیا ہے۔ اس لیے اس متن میں اصل زور غلط الزام کے جواب، اجازت کی قدر، اور صحابی کے واضح بیان پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے الزام کے جواب میں صاف وضاحت کی۔
- ان کے دیہات میں رہنے کا سبب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی اجازت تھا۔
- کسی کے عمل پر حکم لگانے سے پہلے اصل وجہ جاننا چاہیے۔
