صحیح مسلم حدیث ۴۸۲۶ - ہجرت کے بعد اسلام اور خیر کی بیعت
ہجرت کے بعد بیعت: اسلام، جہاد اور نیکی کا عہد
صحیح مسلم : ۴۸۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۲۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، حَدَّثَنِي مُجَاشِعُ بْنُ مَسْعُودٍ السُّلَمِيُّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، فَقَالَ : " إِنَّ الْهِجْرَةَ قَدْ مَضَتْ لِأَهْلِهَا وَلَكِنْ عَلَى الْإِسْلَامِ وَالْجِهَادِ وَالْخَيْرِ " .
مجاشع بن مسعود سلمی روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ہجرت کی بیعت کرنے کو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہجرت تو گزر گئی مہاجرین کے لیے لیکن بیعت کر اسلام پر یا جہاد پر یا نیکی پر۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ہجرت ہے۔ سیدنا مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کی بیعت کرنے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت اپنے اہل کے لیے گزر چکی، لیکن بیعت اسلام، جہاد اور خیر پر ہے۔ اس حدیث میں ہجرت کی حدیث، بیعت بعد الفتح، اور اسلام پر بیعت جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔ متن یہ بتاتا ہے کہ ہر نیک کام کا اپنا وقت اور موقع ہوتا ہے۔ جب ہجرت کا خاص مرحلہ گزر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شخص کو خالی واپس نہیں کیا، بلکہ اسے اسلام، جہاد اور نیکی پر عہد کی طرف رہنمائی فرمائی۔ اس روایت میں اصل پیغام یہ ہے کہ خیر کا دروازہ بند نہیں ہوتا، مگر اس کی صورت موقع کے مطابق بدل سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہجرت کا خاص مرحلہ اپنے اہل کے ساتھ گزر چکا تھا۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسلام، جہاد اور خیر پر بیعت کی طرف رہنمائی فرمائی۔
- نیکی کا عہد موقع کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔
