صحیح مسلم حدیث ۵۱۴۴ - خمر کے دو معروف ذرائع
خمر کی حقیقت: کھجور اور انگور دونوں کا ذکر
صحیح مسلم : ۵۱۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۱۴۴
وحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، وَعِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، وَعُقْبَةَ بْنِ التَّوْأَمِ ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ الْكَرْمَةِ وَالنَّخْلَةِ " ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ الْكَرْمِ وَالنَّخْلِ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شراب ان دو درختوں یعنی کھجور اور انگور سے بنائی جاتی ہے۔“ ابوکریب نے اپنی روایت میں «الكرمته» اور «النخلة» کو بغیر تا کے معنی «كرم» اور «نخل» ذکر کیا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۱۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں بھی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شراب ان دو درختوں سے بنتی ہے: انگور اور کھجور۔ روایت کے آخر میں الفاظ کے فرق کا بھی ذکر ہے، مگر اصل بات وہی ہے کہ خمر کا تعلق صرف ایک ہی چیز سے نہیں سمجھنا چاہیے۔ کھجور اور انگور دونوں سے شراب بن سکتی ہے۔ اس لیے شراب کی حدیث کا پیغام یہ ہے کہ آدمی مشروب کے اصل مادہ اور اس کی حالت کو سمجھے۔ اگر کوئی چیز خمر کے معنی میں آتی ہے تو اسے معمولی نہ سمجھے۔ حدیث میں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ چند الفاظ میں واضح رہنمائی دی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شراب کے بارے میں کھجور اور انگور دونوں کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- الفاظ کے معمولی فرق سے اصل حکم یا مضمون نہیں بدلتا۔
- خمر کو صرف ایک خاص شکل تک محدود سمجھنا درست نہیں۔
- دینی بات کو صاف الفاظ میں سمجھنا اور آگے پہنچانا اہم ہے۔
