صحیح مسلم حدیث ۵۱۷۶ - تونبا، سبز، چوبین اور لاکھی برتن
نبیذ کے ممنوع برتن: تونبا، حنتم، نقیر اور لاکھی برتن
صحیح مسلم : ۵۱۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۱۷۶
وحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ " .
عائشہ روایت:
منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تونبے اور سبز اور چوبین اور لاکھی برتن سے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۱۷۶ کا خلاصہ
اس روایت میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تونبے، سبز برتن، چوبین برتن اور لاکھی برتن سے منع فرمایا۔ عربی متن میں الدباء، الحنتم، النقیر اور المزفت کے الفاظ آئے ہیں۔ اردو میں انہیں سمجھنے کے لیے “تونبا”، “سبز گھڑا”، “کھوکھلی لکڑی کا برتن” اور “لاکھی برتن” جیسے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ حدیث نبیذ کے برتنوں سے متعلق ہے، اس لیے “نبیذ کے برتن حدیث” اور “حنتم نقیر مزفت معنی” جیسے سرچ الفاظ بہت قریب ہیں۔ متن سے جو بات صاف نکلتی ہے وہ یہ ہے کہ نبیذ کے لیے ان خاص برتنوں کے استعمال سے منع کیا گیا۔ اس روایت میں کوئی اضافی سبب بیان نہیں ہوا، اس لیے شرح کو بھی اسی حد میں رکھنا مناسب ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس حدیث میں چار برتنوں کا ذکر ممانعت کے ساتھ ہے۔
- دباء، حنتم، نقیر اور مزفت نبیذ کے باب میں آئے ہیں۔
- حدیث سمجھتے وقت عربی لفظ کا سادہ اردو معنی جاننا فائدہ دیتا ہے۔
