صحیح مسلم حدیث ۵۱۸۰ - برتنوں کی ممانعت اور کچی گدر کھجور کا خلط

نبیذ میں دو احتیاطیں: برتن بھی اور کھجور کا خلط بھی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۱۸۰

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ ، وَأَنْ يُخْلَطَ الْبَلَحُ بِالزَّهْوِ " .

ابن عباس روایت:

منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تونبے اور سبز اور لاکھی اور روغنی برتن سے، کچی اور گدر کھجور کو ملا کر بھگونے سے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۱۸۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تونبے، سبز برتن، لاکھی برتن اور روغنی یا کھوکھلی لکڑی کے برتن سے منع فرمایا۔ اسی روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ کچی اور گدر کھجور کو ملا کر بھگونے سے منع کیا گیا۔ اس طرح یہ متن دو باتیں ساتھ بیان کرتا ہے: نبیذ کے برتنوں سے متعلق احتیاط، اور نبیذ کے اجزاء کو ملانے سے متعلق احتیاط۔ “نبیذ کے برتن حدیث”، “کچی گدر کھجور نبیذ” اور “دباء حنتم مزفت نقیر” اس روایت کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔ شرح میں دونوں باتوں کو الگ الگ سمجھنا چاہیے، کیونکہ روایت میں دونوں کا ذکر آیا ہے۔ ایک طرف برتنوں کے نام ہیں، دوسری طرف کھجور کے خلط کی ممانعت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خاص برتنوں سے منع کا ذکر اس روایت میں ہے۔
  • کچی اور گدر کھجور کو ملا کر بھگونے سے بھی منع کیا گیا ہے۔
  • جب حدیث میں دو باتیں آئیں تو انہیں الگ الگ سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں