صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۷ - تھوڑے کھانے میں برکت کی دعا

تھوڑے کھانے میں برکت: ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی دعوت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۱۷

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَدْعُوَهُ وَقَدْ جَعَلَ طَعَامًا ، قَالَ : فَأَقْبَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ ، فَنَظَرَ إِلَيَّ فَاسْتَحْيَيْتُ ، فَقُلْتُ : أَجِبْ أَبَا طَلْحَةَ ، فَقَالَ لِلنَّاسِ : " قُومُوا " ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا صَنَعْتُ لَكَ شَيْئًا ، قَالَ : فَمَسَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا فِيهَا بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَدْخِلْ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِي عَشَرَةً " ، وَقَالَ : " كُلُوا وَأَخْرَجَ لَهُمْ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ " فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَخَرَجُوا ، فَقَالَ : " أَدْخِلْ عَشَرَةً " ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا فَمَا زَالَ يُدْخِلُ عَشَرَةً وَيُخْرِجُ عَشَرَةً حَتَّى لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ ، فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ ثُمَّ هَيَّأَهَا ، فَإِذَا هِيَ مِثْلُهَا حِينَ أَكَلُوا مِنْهَا .

انس بن مالک روایت:

مجھے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے بھیجا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینے کے لئے اور کھانا انہوں نے تیار کیا تھا۔ میں آیا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا، مجھے شرم آئی، میں نے عرض کیا: ابوطلحہ کی دعوت قبول کیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”چلو۔“ابوطلحہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے تو آپ کے لئے تھوڑا سا کھانا تیار کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھانے کو چھوا اور دعا کی اس میں برکت ہونے کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھیوں میں سے دس آدمیوں کو بلا لے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ۔“ اور اپنی انگلیوں کے بیچ میں سے کچھ نکالا۔انہوں نے کھایا اور سیر ہو گئے، وہ گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور دس کو بلا لے۔“ انہوں نے بھی کھایا اور نکلے، پھر اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم دس دس کو اندر بلاتے اور دس دس باہر جاتے یہاں تک کہ کوئی ان میں سے باقی نہ رہا جو سیر نہ ہوا ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھانے کو ایک جگہ کیا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا انہوں نے کھانا شروع کیا تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۷ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دینے کے لیے بھیجا۔ کھانا تھوڑا تھا، مگر جب انس رضی اللہ عنہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے فرمایا کہ چلو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ کھانا تو آپ کے لیے تھوڑا سا بنایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھانے کو چھوا اور برکت کی دعا کی۔ پھر دس دس صحابہ کو اندر بلایا گیا۔ سب کھاتے اور سیر ہو کر نکلتے رہے، یہاں تک کہ کوئی باقی نہ رہا۔ آخر میں کھانا اسی طرح تھا جیسے شروع میں تھا۔ یہ حدیث کھانے میں برکت کی دعا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے کا واضح واقعہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کھانا کم تھا مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا فرمائی۔
  • صحابہ دس دس کر کے کھاتے رہے۔
  • ہر آنے والا گروہ سیر ہو کر نکلا۔
  • آخر میں کھانا شروع جیسا رہنے کا ذکر روایت میں آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں