صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۸ - بچا ہوا کھانا اور برکت
بچے ہوئے کھانے میں برکت: ابوطلحہ کے واقعے کی روایت
صحیح مسلم : ۵۳۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۱۸
وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَي الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْر ٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي آخِرِهِ : " ثُمَّ أَخَذَ مَا بَقِيَ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا فِيهِ بِالْبَرَكَةِ " ، قَالَ : فَعَادَ كَمَا كَانَ ، فَقَالَ دُونَكُمْ هَذَا .
انس بن مالک روایت:
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا اور پھر ابن نمیر کی روایت کی طرح حدیث نقل کی ہے اور اس میں یہ ہے کہ پھر جو کھانا بچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اکٹھا کیا اور دعا کی اس میں برکت کی وہ اتنا ہی ہو گیا جتنا پہلے تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لے لو اس کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۳۱۸ کا خلاصہ
یہ روایت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے کھانے والے واقعے کی ایک اور نقل ہے۔ اس میں خاص طور پر آخر کا حصہ بیان ہوا ہے کہ جب لوگ کھا چکے تو جو کھانا بچا اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمع کیا، پھر اس میں برکت کی دعا فرمائی۔ روایت کے الفاظ کے مطابق وہ کھانا پہلے جیسا ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے لو۔ اس سے آدابِ طعام کے ساتھ برکت کا مضمون بہت صاف سامنے آتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ کھانا اللہ کی نعمت ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے اس کم کھانے میں اتنی وسعت ہوئی کہ لوگ سیر ہو گئے، پھر بچا ہوا بھی کم نہ رہا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچا ہوا کھانا جمع کیا گیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا فرمائی۔
- روایت کے مطابق کھانا پہلے جیسا ہو گیا۔
- کھانے کو سنبھالنا اور قدر کرنا اس واقعے میں دکھائی دیتا ہے۔
