صحیح مسلم حدیث ۵۳۷ - بے وضو نماز قبول نہیں
بے وضو نماز قبول نہیں: وضو کی اہمیت
صحیح مسلم : ۵۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۳۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ إِذَا أَحْدَثَ ، حَتَّى يَتَوَضَّأَ " .
ہمام بن منبہ روایت:
ہمام بن منبہ سے روایت ہے، جو وہب بن منبہ کے بھائی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ حدیثیں ہیں جو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر ذکر کیا کئی حدیثوں کو، ان میں سے ایک حدیث یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نہیں قبول کرتا تم میں سے کسی کی نماز جب وہ بے وضو ہو یہاں تک کہ وہ وضو کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے وضو اور نماز کا صاف اصول بیان فرمایا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں کرتا جب وہ بے وضو ہو، یہاں تک کہ وہ وضو کرے۔ یہ حدیث مختصر ہے مگر نماز کی تیاری کا بنیادی سبق دیتی ہے۔ نماز صرف کھڑے ہو جانے کا نام نہیں، اس سے پہلے طہارت ضروری ہے۔ اگر کسی کا وضو ٹوٹ جائے تو وہ پہلے وضو کرے، پھر نماز پڑھے۔ اس روایت میں کوئی اضافی تفصیل نہیں، اس لیے اس کا اصل پیغام یہی ہے کہ نماز کے لیے وضو کی حالت لازم ہے۔ عام زندگی میں یہ حدیث ہمیں نماز سے پہلے اپنی طہارت چیک کرنے کی عادت سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بے وضو حالت میں نماز قبول نہیں ہوتی۔
- وضو نماز کی بنیادی تیاری ہے۔
- وضو ٹوٹ جائے تو نماز سے پہلے دوبارہ وضو کرنا چاہیے۔
- حدیث نماز میں طہارت کی اہمیت واضح کرتی ہے۔
