صحیح مسلم حدیث ۵۴ - بداعتقادی ظاہر ہونے کے بعد روایت
بداعتقادی ظاہر ہو تو روایت میں احتیاط کیوں بڑھتی ہے؟
صحیح مسلم : ۵۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : كَانَ النَّاسُ يَحْمِلُونَ ، عَنْ جَابِر ، قَبْلَ أَنْ يُظْهِرَ مَا أَظْهَرَ ، فَلَمَّا أَظْهَرَ مَا أَظْهَرَ ، اتَّهَمَهُ النَّاسُ فِي حَدِيثِهِ ، وَتَرَكَهُ بَعْضُ النَّاسِ ، فَقِيلَ لَهُ : وَمَا أَظْهَرَ ؟ قَالَ : الإِيمَانَ بِالرَّجْعَةِ ،
سفیان روایت:
پہلے لوگ جابر سے حدیثیں روایت کرتے تھے جب تک اس نے بداعتقادی نہیں ظاہر کی تھی۔ پھر جب اس نے اپنا اعتقاد کھولا تو لوگوں نے اسے متہم کیا حدیث میں اور بعض نے اس کو ترک کر دیا۔ لوگوں نے کہا: بداعتقادی اس کی کیا معلوم ہوئی؟ سفیان نے کہا: رجعت پر یقین کرنا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴ کا خلاصہ
اس روایت میں سفیان بتاتے ہیں کہ لوگ جابر سے روایت لیتے تھے، جب تک اس نے اپنی نئی بات ظاہر نہیں کی تھی۔ پھر جب اس کا اعتقاد ظاہر ہوا تو لوگوں نے اس کی حدیث میں اسے متہم کیا اور بعض نے اسے چھوڑ دیا۔ پوچھنے پر سفیان نے بتایا کہ وہ رجعت پر ایمان رکھتا تھا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کی تحقیق میں راوی کے ظاہر شدہ عقیدے یا رجحان کو بھی دیکھا جاتا ہے۔ یہاں یہ نہیں کہا جا رہا کہ ہر اختلاف پر ہر روایت چھوڑ دی جائے، بلکہ اس خاص متن میں جابر کے بارے میں اہل علم کی احتیاط بیان ہوئی ہے۔ اس سے ہمیں راوی کی ثقاہت، بدعتی عقیدہ، اور حدیث قبول کرنے کے اصول کا تعلق سمجھ آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- راوی کا ظاہر شدہ عقیدہ اس کی روایت کے اعتماد پر اثر ڈال سکتا ہے۔
- اہل علم کسی راوی کو چھوڑنے سے پہلے وجہ بھی بیان کرتے تھے۔
- پہلے اور بعد کی حالت کو الگ سمجھنا ضروری ہے۔
- حدیث کی حفاظت کے لیے مشکوک راوی سے احتیاط کی جاتی ہے۔
