صحیح مسلم حدیث ۵۵ - غیر معمولی حدیثی دعوے
بڑی تعداد کے دعوے اور حدیث کی تحقیق
صحیح مسلم : ۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۵
وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، وَأَخُوهُ ، أنهما سمعا الجراح بن مليح ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : عِنْدِي سَبْعُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهَا.
جابر بن یزید جعفی روایت:
میرے پاس ستر (۷۰) ہزار حدیثیں ہیں جن کو میں نے روایت کیا ہے ابوجعفر سے (یعنی امام محمد بن باقر سے) انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۵ کا خلاصہ
اس روایت میں جابر بن یزید جعفی کا قول نقل ہوا ہے کہ اس کے پاس ستر ہزار حدیثیں ہیں جو اس نے ابوجعفر سے، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑا دعویٰ ہے، اس لیے حدیث کی تحقیق کے باب میں اسے راوی کی حالت سمجھنے کے لیے ذکر کیا گیا ہے۔ یہاں ہمیں اصل بات یہ سمجھنی چاہیے کہ زیادہ تعداد کا دعویٰ خود بخود اعتماد پیدا نہیں کرتا۔ محدثین حدیث کی سند، راوی کی ثقاہت، روایت کے طریقے، اور بیان کے انداز کو دیکھتے ہیں۔ اگر کوئی شخص بہت بڑی تعداد میں روایات کا دعویٰ کرے تو اہل علم اسے پرکھتے ہیں۔ دین کی بات میں مقدار سے زیادہ سچائی، ضبط، اور معتبر سند اہم ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زیادہ حدیثوں کا دعویٰ خود بخود اعتماد کی دلیل نہیں بنتا۔
- بڑی نسبت کے ساتھ سند اور راوی کی جانچ اور بھی ضروری ہو جاتی ہے۔
- حدیث کی تحقیق میں تعداد سے زیادہ اعتماد اور ضبط دیکھا جاتا ہے۔
- دین کی بات نقل کرتے وقت احتیاط اور ثبوت لازم ہیں۔
