صحیح مسلم حدیث ۵۶ - چھپی ہوئی روایات کا دعویٰ

چھپی ہوئی حدیثوں کے دعوے کو کیسے دیکھا جائے؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶

وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ زُهَيْرًا ، يَقُولُ : قَالَ جَابِرٌ أَوْ سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : إِنَّ عِنْدِي لَخَمْسِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ ، مَا حَدَّثْتُ مِنْهَا بِشَيْءٍ.قَالَ ثُمَّ حَدَّثَ يَوْمًا بِحَدِيثٍ ، فَقَالَ : هَذَا مِنَ الْخَمْسِينَ أَلْفًا.

زہیر روایت:

جابر کہتا تھا میرے پاس پچاس ہزار ایسی حدیثیں ہیں جن کو میں نے لوگوں سے بیان نہیں کیا۔ پھر ایک روز ایک حدیث بیان کی اور کہنے لگا کہ یہ ان ہی پچاس ہزار میں سے ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۶ کا خلاصہ

اس روایت میں زہیر سے نقل ہے کہ جابر کہتا تھا میرے پاس پچاس ہزار ایسی حدیثیں ہیں جن میں سے میں نے کچھ بیان نہیں کیا۔ پھر ایک دن اس نے ایک حدیث بیان کی اور کہا کہ یہ انہی پچاس ہزار میں سے ہے۔ حدیث کی تحقیق کے لحاظ سے یہ دعویٰ بہت قابل توجہ ہے۔ محدثین ایسے دعووں کو صرف سن کر قبول نہیں کرتے تھے، بلکہ دیکھتے تھے کہ سند کیا ہے، راوی کون ہے، اور بات کس اعتماد سے نقل ہو رہی ہے۔ اس روایت سے یہ نہیں نکلتا کہ ہر پوشیدہ علم کا دعویٰ ایک جیسا ہے، بلکہ یہاں خاص طور پر جابر کے دعوے کا ذکر ہے۔ عام سبق یہ ہے کہ دین کے نام پر کسی بڑی یا انوکھی بات کو ثبوت کے بغیر قبول نہیں کرنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چھپی ہوئی بڑی تعداد کی روایات کا دعویٰ جانچ کا محتاج ہوتا ہے۔
  • حدیث قبول کرنے کے لیے دعویٰ نہیں، سند اور اعتماد چاہیے۔
  • انوکھی بات سن کر فوراً اسے دین کا حصہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • محدثین راوی کے بیان کے انداز کو بھی دیکھتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں