صحیح مسلم حدیث ۵۷ - نبی صلى الله عليه وسلم کی طرف بڑی نسبت میں احتیاط

نبی صلى الله عليه وسلم کی طرف حدیث منسوب کرنے میں بہت احتیاط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۷

وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْيَشْكُرِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْوَلِيدِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ سَلَّامَ بْنَ أَبِي مُطِيعٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرًا الْجُعْفِيَّ ، يَقُولُ : عِنْدِي خَمْسُونَ أَلْفَ حَدِيثٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سلام بن ابی مطیع روایت:

میں نے سنا جابر جعفی سے، میرے پاس پچاس ہزار حدیثیں ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔

صحیح مسلم حدیث ۵۷ کا خلاصہ

اس روایت میں سلام بن ابی مطیع کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر جعفی کو یہ کہتے سنا کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پچاس ہزار حدیثیں ہیں۔ یہ بات حدیث کی تحقیق کے باب میں اس لیے اہم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی بات منسوب کرنا بہت سنجیدہ معاملہ ہے۔ زیادہ تعداد کا دعویٰ سن کر متاثر ہو جانا آسان ہے، لیکن محدثین کا طریقہ یہ تھا کہ سند، راوی، اور روایت کے اعتماد کو دیکھا جائے۔ یہاں جابر کے بارے میں پچھلی روایات میں بھی احتیاط کا پہلو آیا ہے، اس لیے اس دعوے کو بھی اسی علمی انداز سے دیکھا جاتا ہے۔ عام مسلمان کے لیے سبق یہ ہے کہ ہر حدیث کہلانے والی بات کو بغیر تحقیق آگے نہ پھیلایا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت بہت احتیاط چاہتی ہے۔
  • بڑی تعداد کا دعویٰ حدیث کے صحیح ہونے کی ضمانت نہیں۔
  • راوی کے بارے میں سابقہ علمی تنبیہات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
  • حدیث آگے بیان کرنے سے پہلے اس کا اعتماد دیکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں