صحیح مسلم حدیث ۵۸ - قرآن کی غلط تاویل سے بچاؤ

قرآن کی غلط تاویل اور حدیثی احتیاط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۸

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ جَابِرًا ، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ فَلَنْ أَبْرَحَ الأَرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ سورة يوسف آية 80 ، فَقَالَ جَابِرٌ : لَمْ يَجِئْ تَأْوِيلُ هَذِهِ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَكَذَبَ.فَقُلْنَا لِسُفْيَانَ : وَمَا أَرَادَ بِهَذَا ، فَقَالَ : إِنَّ الرَّافِضَةَ ، تَقُولُ : إِنَّ عَلِيًّا فِي السَّحَابِ ، فَلَا نَخْرُجُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مِنْ وَلَدِهِ ، حَتَّى يُنَادِيَ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ ، يُرِيدُ عَلِيًّا أَنَّهُ يُنَادِي ، اخْرُجُوا مَعَ فُلَانٍ . يَقُولُ جَابِرٌ : فَذَا تَأْوِيلُ هَذِهِ الآيَةِ ، وَكَذَبَ ، كَانَتْ فِي إِخْوَةِ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلامُ "

سفیان روایت:

میں سنا ایک شخص نے جابر جعفی سے پوچھا اس آیت «فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ» کے بارے میں۔ ۱؎ جابر نے کہا: اس آیت کا مطلب ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ سفیان نے کہا: جابر جھوٹا تھا۔ حمیدی نے (جو اس روایت کو سفیان سے نقل کرتے ہیں) کہا: ہم لوگوں نے سفیان سے پوچھا: جابر کی کیا غرض تھی؟انہوں نے کہا: رافضی لوگ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ابر میں ہیں اور ہم ان کى اولاد میں سے کسى کے ساتھ نہ نکلیں گے یہاں تک کہ آسمان سے سیدنا على رضی اللہ عنہ آواز دیں گے کہ نکلو اس شخص کے ساتھ تو جابر نے کہا کہ اس آیت کی تفسیر یہ ہے اور جھوٹ کہا: اس لئے کہ یہ آیت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے قصہ میں ہے۔۲؎

صحیح مسلم حدیث ۵۸ کا خلاصہ

اس روایت میں ایک شخص نے جابر جعفی سے سورہ یوسف کی آیت کے بارے میں پوچھا۔ جابر نے کہا کہ اس آیت کا مطلب ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ سفیان نے اسے جھوٹ کہا اور وجہ سمجھائی کہ جابر اسے ایک خاص رافضی خیال سے جوڑ رہا تھا، حالانکہ یہ آیت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کے قصے میں ہے۔ اس روایت کا اصل سبق قرآن کی غلط تاویل سے بچنا ہے۔ آیت کو اس کے بیان کردہ موقع سے ہٹا کر کسی اور عقیدے پر چسپاں کرنا درست نہیں سمجھا گیا۔ حدیث کی تحقیق میں راوی کی بات، اس کی تاویل، اور اس کے پیچھے موجود رجحان سب دیکھا جاتا ہے۔ عام قاری کے لیے یہ اہم تنبیہ ہے کہ قرآن کی تفسیر میں بے بنیاد دعووں سے بچنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کی آیت کو اس کے متعلقہ قصے سے کاٹ کر غلط معنی نہیں دینا چاہیے۔
  • راوی کی تاویل اگر غلط ہو تو اہل علم اسے واضح کرتے ہیں۔
  • دینی عقیدے کے لیے بے بنیاد تفسیر استعمال کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
  • قرآن کی تفسیر میں معتبر علم اور احتیاط ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں